Quran Par Shayari in Urdu | 2024

You’re absolutely right! Quranic poetry, also known as “Naat” or “Hamd,” is a beautiful way to express love, devotion, and reverence for Allah and Islamic teachings. Here’s a breakdown of your prompt and some additional thoughts:

Prompt:

  • Quran Poetry: You mentioned this as a preferred way to express oneself.
  • Collection of Poetry: There might be copyright concerns with sharing a large collection here, but I can help you find resources.
  • Expressing Feelings: Quranic poetry often delves into themes of faith, love, gratitude, and guidance.

Additional Thoughts:

  • Examples: Would you like some examples of Quranic poetry in Urdu?
  • Online Resources: There are many websites and apps dedicated to Islamic poetry. I can’t share specific links, but I can guide you with search terms like “Quranic poetry in Urdu” or “Naat collection.”
  • Respectful Use: It’s important to be respectful when using Quranic verses in poetry.

I can’t provide the full collection here, but I hope these pointers help you find beautiful and meaningful Quranic poetry in Urdu.

بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے

Here is a beautiful Urdu poem about the Quran, titled “بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے” (When He Gives Speech to the Speechless):

بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے پھر وہ گنگے بھی نغمیں سنانے لگتے ہیں

کون ہے وہ جو بے جانوں میں جان ڈالتا ہے اور پھر ان کو اپنی شان سے سجانے لگتے ہیں

وہی ہے اللہ رب العالمین جو اپنے بندوں پر احسان کرنے لگتے ہیں

اس نے قرآن مجید نازل فرمایا جو ہدایت کا نور ہے

اس کی تلاوت کرنے سے دل روشن ہو جاتا ہے اور زندگی میں سکون اور اطمینان آ جاتا ہے

قرآن مجید اللہ کی رحمت ہے جو اس کے بندوں پر نازل ہوئی ہے

ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی تلاوت باقاعدگی سے کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں

یہی ہمارے لیے فلاح و سعادت کا راستہ ہے

Translation:

When He gives speech to the speechless Then even the mute begin to sing melodies

Who is He who puts life into the lifeless And then begins to adorn them with His glory

He is Allah, the Lord of the Worlds Who showers His blessings on His servants

He revealed the Holy Quran Which is the light of guidance

By reciting it, the heart is illuminated And peace and tranquility come into life

The Holy Quran is the mercy of Allah Which has descended on His servants

We should recite it regularly And act upon its teachings

This is the path to salvation and happiness for us

Check Out : QURAN SURAH 2 AYAT 230 IN HINDI | 2024

This poem beautifully captures the essence of the Quran and its transformative power. The Quran is a source of guidance, light, and mercy for all who seek it. By reciting it and reflecting on its teachings, we can find peace, happiness, and success in this life and the next.

قران کی نفی

یہاں ایک قطعہ شاعری پیش کیا جا رہا ہے جو قرآن کی بالائیوں اور اس کی شان کو بیان کرتا ہے:

باری تعالیٰ کا قرآن، ایک نعمتِ ربانی
ہر مسئلہ کا حل، ہر راہ کا روشنی

اکتبار کی کتاب، راہنمائی کی کتاب
دلوں کی دھڑکن، روحوں کا افسانہ

محکم اور عمیق، تجلیات کا معجزہ
رحمتوں کا بحر، ہدایتوں کا فلک

سبحان اللہ کی تحریر، رسالتوں کا مجموعہ
ہر لفظ ہے رحمت، ہر آیت روشنی

اے قرآن، تیرا لطف، تیرا کرم، تیرا فضل
ہر قلب کی ضرورت، ہر دم کی دعا

یہ شاعری قرآن کی اہمیت، قدر، اور بالائیوں کو اجاگر کرتی ہے۔

Qalb E Quran Ka Fakhar

نعت گوئی میں دلکش فضا چاہئے

وشمہ خان وشمہ

تشریح:

یہ ایک خوبصورت نعت ہے جس میں شاعرہ نے حضور نبی اکرم ﷺ کی مدح سرائی کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ نعت گوئی کے لیے ایک دلکش فضا کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں اپنے محبوب نبی ﷺ کی مدح کے لیے طیبہ کی ٹھنڈی ہوا کی چاہت ہے۔

شعر کی تشریح:

  • نعت گوئی میں دلکش فضا چاہئے

شاعرہ کہتی ہیں کہ نعت گوئی کے لیے ایک خاص قسم کی فضا کی ضرورت ہوتی ہے جو دلکش اور روح پرور ہو۔ یہ فضا خشوع و خضوع اور عشق و محبت سے بھرپور ہونی چاہیے۔

  • مجھ کو طیبہ کی ٹھنڈی ہوا چاہئے

شاعرہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے محبوب نبی ﷺ کی مدح کے لیے طیبہ کی ٹھنڈی ہوا کی چاہت رکھتی ہیں۔ طیبہ مدینہ منورہ کا قدیم نام ہے جو حضور نبی اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد آپ کا مسکن بن گیا تھا۔

  • میرے شعروں میں حسنِ نبی ہو فقط

شاعرہ چاہتی ہیں کہ ان کے اشعار میں صرف اور صرف حضور نبی اکرم ﷺ کی خوبصورتی اور عظمت کا بیان ہو۔ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے اشعار میں دنیاوی چیزوں کا کوئی ذکر ہو۔

  • شاہِ عالم کی مجھ کو عطا چاہئے

شاعرہ کہتی ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی عطا کی طالب ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ حضور ﷺ ان پر اپنی رحمت اور عنایت کی نظر ڈالیں۔

  • اب تو مطلوب ہے رحمتِ دو جہاں

شاعرہ کہتی ہیں کہ اب ان کے لیے دنیا اور آخرت کی دونوں جہانوں کی رحمت مطلوب ہے۔ یہ رحمت صرف حضور نبی اکرم ﷺ کے وسیلے سے ہی مل سکتی ہے۔

  • زندگی کو میسر شفا چاہئے

شاعرہ کہتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے لیے شفا کی طالب ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ حضور نبی ﷺ ان کی زندگی کو ہدایت اور نور سے بھر دیں۔

  • آپ آئے تو ظلمت کے بادل چھٹے

شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر حضور نبی اکرم ﷺ آجائیں تو دنیا کی تمام ظلمتیں دور ہو جائیں گی۔ ان کی آمد سے دنیا میں امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔

  • اب بھی خیرُ الورٰئ کی ضیا چایئے

شاعرہ کہتی ہیں کہ دنیا کو اب بھی حضور نبی اکرم ﷺ کی نورانی ذات کی ضرورت ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ حضور ﷺ کی ضیا پوری دنیا کو روشن کر دے۔

  • آپ ہیں بے قراروں کے آقا قرار

شاعرہ کہتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ بے قرار لوگوں کے لیے قرار ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ حضور ﷺ ان کے بے چین دلوں کو سکون عطا فرمائیں۔

  • آپ کے عشق کی انتہا چاہئے

شاعرہ کہتی ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے عشق کی انتہا تک پہنچنا چاہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا ہر لمحہ حضور ﷺ کی محبت میں گزرے۔

Check Out : QURBANI KI DUA | QURBANI KA TARIKA | 2024

  • وشمہ چاہے ہمشہ ہی رحم و کرم

شاعرہ کہتی ہیں کہ وہ ہمیشہ حضور نبی اکرم ﷺ کے رحم و کرم کی طالب رہیں گی۔ وہ چاہتی ہیں کہ حضور ﷺ ان پر اپنی رحمت اور عنایت کی نظر ڈالیں۔

مجموعی جائزہ:

یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور دلکش نعت ہے۔ شاعرہ نے اپنے جذبات کا اظہار بہت ہی خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ نعت میں حضور نبی اکرم ﷺ کی مدح سرائی کے ساتھ ساتھ شاعرہ کے اپنے عشق و محبت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

درجہ بندی:

میں اس نعت کو 5 میں سے 5 ستارے دیتا ہوں۔

قرآن کی رونق

ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی

تشریح:

یہ ایک خوبصورت نعت ہے جس میں شاعر نے قرآن مجید کی عظمت اور شان بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید دنیا و جہاں کی رونق ہے اور اس کی روشنی سے پوری دنیا منور ہے۔

شعر کی تشریح:

  • اُن سے دنیا جہان کی رونق

شاعر کہتے ہیں کہ قرآن مجید سے دنیا و جہاں کی رونق ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات سے دنیا میں امن و امان اور خوشحالی قائم ہوتی ہے۔

  • لالہ و گلستان کی رونق

شاعر کہتے ہیں کہ قرآن مجید لالہ و گلستان کی رونق ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات سے دنیا ایک خوبصورت باغ بن جاتی ہے۔

  • لاکھ دشمن کیا کریں سازش

شاعر کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی روشنی کو کوئی بھی مٹا نہیں سکتا۔ چاہے دشمن لاکھ سازشیں کریں، قرآن مجید کی رونق ہمیشہ قائم رہے گی۔

  • ذکرِ سرکار کی بدولت ہی

شاعر کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی مدح و ثنا سے ان کے دل و جان میں رونق پیدا ہوتی ہے۔

  • ہر نفَس روز افزوں ہے

شاعر کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت ان کے دل میں روز افزوں ہے۔

  • اُن سے میرے مکان کی رونق

شاعر کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت سے ان کے مکان میں رونق پیدا ہوتی ہے۔

  • جن کے لب پر ثناے احمد ہے

شاعر کہتے ہیں کہ جن کے لب پر حضور نبی اکرم ﷺ کی ثنا ہوتی ہے، ان کی زبان میں رونق پیدا ہوتی ہے۔

  • کوئی اُن سا بلیغ نہ گزرا

شاعر کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے بڑا کوئی بلیغ نہیں گزرا۔

  • اُن سے حاصل بیان کی رونق

شاعر کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے انہیں بیان کی رونق حاصل ہوئی ہے۔

  • فیضِ رضوی سے ہند میں باقی

شاعر کہتے ہیں کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کے فیض سے ہندوستان میں عشقِ رسول ﷺ کی رونق باقی ہے۔

  • میرے نظمی ہیں وقت کے حسّاں

شاعر کہتے ہیں کہ ان کی نظمیں وقت کے حسّاں ہیں اور ان میں نعتِ رسول ﷺ کی رونق ہے۔

  • یارسولِ خدا مُشاہدؔ کو

شاعر حضور نبی اکرم ﷺ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں شیریں لسان کی رونق عطا فرمائیں۔

مجموعی جائزہ:

یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور دلکش نعت ہے۔ شاعر نے اپنے جذبات کا اظہار بہت ہی خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ نعت میں قرآن مجید کی عظمت اور شان کے ساتھ ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کی مدح و ثنا بھی کی گئی ہے۔

Check Out : PASAND KI SHADI KI DUA IN QURAN | 2024

قرآن

تشریح:

یہ ایک نظم ہے جس میں شاعر نے قرآن مجید کی اہمیت اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید ایمان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اس میں زندگی گزارنے کے لیے ضروری تمام ہدایات موجود ہیں۔

شعر کی تشریح:

  • مخملی غلاف میں اک اونچی جگا ایمان رکھا ہے

شاعر کہتے ہیں کہ قرآن مجید کو مخملی غلاف میں ایک اونچی جگہ پر رکھا جاتا ہے، جو اس کی اہمیت اور احترام کو ظاہر کرتا ہے۔

  • اس مصلحت کے خزانے کو باندہ کے رکھا ہے

شاعر کہتے ہیں کہ قرآن مجید ایک مصلحت کا خزانہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔

  • اس مصروف دور میں, ایمان کمزور کیوں نہ ہو

شاعر کہتے ہیں کہ آج کے مصروف دور میں لوگوں کا ایمان کمزور ہو رہا ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ہیں۔

  • خدا جانے! خدا نے عربی زبان میں کیا لکھ رکھا ہے

شاعر کہتے ہیں کہ خدا نے قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا ہے، جو ایک مشکل زبان ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیمات کو سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے۔

  • وقت ہوا اب تم بھی حرف جوڑ کر اسے یاد کر لو

شاعر کہتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم قرآن مجید کے حروف کو جوڑ کر اسے یاد کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔

  • خالو فوت ہووے, خالا نے گھر چالیسواں رکھا ہے

شاعر کہتے ہیں کہ جب کسی کا خالو فوت ہو جاتا ہے تو اس کی خالہ گھر میں چالیسواں رکھتی ہے۔ اس طرح ہم قرآن مجید کو بھی صرف رسم و رواج کے طور پر پڑھتے ہیں اور اس کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ہیں۔

  • بازار سے اک نى جلد لا کر پھر سے سجا دو

شاعر کہتے ہیں کہ ہم بازار سے قرآن مجید کی ایک نئی جلد لا کر اسے اپنے گھر میں سجا دیتے ہیں، لیکن اسے پڑھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔

  • کچھ دن ہووے, بیاہ میں بھانجي کے سر په رکھا ہے

شاعر کہتے ہیں کہ جب ہماری بھانجی کی شادی ہوتی ہے تو ہم اس کے سر پر قرآن مجید رکھتے ہیں، لیکن اسے اپنی زندگی میں رہنمائی کے لیے استعمال نہیں کرتے ہیں۔

  • جاؤ داتا صاحب, اک ديغ چڑها کر کچھ دعا کرو

شاعر کہتے ہیں کہ ہم لوگ داتا صاحب کے مزار پر جا کر دیغ چڑھاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں، لیکن قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ہیں۔

  • شاه جي نے دنیا چھوڑ کر دین و ایمان اٹھا رکھا ہے

شاعر کہتے ہیں کہ شہ جی نے دنیا چھوڑ کر دین و ایمان کو اٹھا رکھا ہے، یعنی وہ قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرنے والے انسان تھے۔

مجموعی جائزہ:

یہ ایک بہت ہی اچھی نظم ہے جس میں شاعر نے قرآن مجید کی اہمیت اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ نظم میں طنز و مزاح کا استعمال بھی کیا گیا ہے، جو اسے مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

درجہ بندی:

میں اس نظم کو 5 میں سے 4 ستارے دیتا ہوں۔

تكمیلِ درسِ قرآن

بِنْت

تشریح:

یہ ایک نظم ہے جس میں شاعرہ نے قرآن مجید کی تکمیل کے بعد اپنے احساسات کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انہوں نے قرآن مجید کی تکمیل کی تو ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کا ایک خاص اثر ہوا۔

شعر کی تشریح:

  • جب تکمیل کو پہنچا درسِ قرآن

شاعرہ کہتی ہیں کہ جب انہوں نے قرآن مجید کی تکمیل کی تو ان پر ایک خاص اثر ہوا۔

  • ہوا کچھ یوں اثر ہم پہ

شاعرہ کہتی ہیں کہ قرآن مجید کی تکمیل کے بعد ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کا ایک خاص اثر ہوا۔

  • جب آشنائی بڑھی رب سے

شاعرہ کہتی ہیں کہ جب ان کی اللہ تعالیٰ سے آشنائی بڑھی تو انہیں اس کی محبت کا اندازہ ہوا۔

  • اندازہ ہوا اس کی محبت کا ہم پہ

شاعرہ کہتی ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی محبت کا اندازہ ہوا۔

  • ہماری معمولی سی عبادت کے صلے میں بڑی سے بڑی لغزش کو وہ

شاعرہ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری معمولی سی عبادت کے صلے میں ہماری بڑی سے بڑی لغزشوں کو معاف کر دیتا ہے۔

  • خداوند تعالیٰ

شاعرہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کی تعریف کرتی ہیں۔

  • بخش دیتا ہے، معاف کردیتا ہے

شاعرہ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حساب محبت کرتا ہے اور انہیں بخش دیتا ہے اور معاف کردیتا ہے۔

  • رحمتِ باری تعالیٰ

شاعرہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی تعریف کرتی ہیں۔

  • سنبھال لیتا ہے، بچا لیتا ہے

شاعرہ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سنبھال لیتا ہے اور بچا لیتا ہے۔

  • ظلمت کے اندھیروں میں جب کھو جائے بندہ تو اسالِ محبت کی پہچان وہ

شاعرہ کہتی ہیں کہ جب انسان ظلمت کے اندھیروں میں کھو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے محبت کی راہ دکھاتا ہے۔

  • ہادیِ اعظم

شاعرہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتی ہیں۔

  • دیکھا دیتا ہے، بتا دیتا ہے

شاعرہ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔

  • میں ہوں شرمندہ، احساس ہے ندامت کا، آنسو ہے سیلِ رواں پر وہ ہے

شاعرہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہیں۔

  • ہستیِ غفور الرحیم

شاعرہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کی تعریف کرتی ہیں۔

  • بخش دیتا ہے، قبول کرتا ہے

شاعرہ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخش دیتا ہے اور ان کی توبہ قبول کرتا ہے۔

  • اطمینان یہ ایسا اس رب نے دلایا ہے، ہے یہ ایمان کا وہ حصہ جو ماننا ہے

شاعرہ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خاص اطمینان دیا ہے اور یہ ایمان کا وہ حصہ ہے جسے ماننا ضروری ہے۔

  • ربِ کریم

شاعرہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتی ہیں۔

  • بخش دیتا ہے، معاف کردیتا ہے، سنبھال لیتا ہے، قبول کرتا ہے

شاعرہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کی تعریف کرتی ہیں۔

  • ہوا کچھ یوں اثر ہم پہ

شاعرہ کہتی ہیں کہ قرآن مجید کی تکمیل کے بعد ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کا ایک خاص اثر ہوا۔

مجموعی جائزہ:

یہ ایک بہت ہی اچھی نظم ہے جس میں شاعرہ نے قرآن مجید کی تکمیل کے بعد اپنے احساسات کا اظہار کیا ہے۔ نظم میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کی شان

قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنے

رجب علی بیگ سرور

تشریح:

یہ ایک غزل ہے جس میں شاعر نے قرآن مجید کی عظمت اور شان بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید محبوب کے چہرے کے سامنے رکھی ہوئی کتاب ہے اور اسے پڑھنا اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

شعر کی تشریح:

  • قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنے

شاعر کہتے ہیں کہ قرآن مجید محبوب کے چہرے کے سامنے رکھی ہوئی کتاب ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کلام ہے اور اسے پڑھنا اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

  • مصحف اٹھا لوں صاحب قرآں کے سامنے

شاعر کہتے ہیں کہ جب ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں تو یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی قربت عطا کرتا ہے۔

  • جنت ہے گرد کوچۂ جاناں کے سامنے

شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت اس کے محبوب کے کوچے کے گرد ہے۔

  • دوزخ ہے سرد سینۂ سوزاں کے سامنے

شاعر کہتے ہیں کہ دوزخ جلتے ہوئے دل کے سامنے ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم رہتا ہے وہ دوزخ کا مستحق ہے۔

  • سکتہ ابھی ہو روح سکندر کو شرم سے

شاعر کہتے ہیں کہ اگر سکندر اعظم زندہ ہوتا تو اسے قرآن مجید کی عظمت دیکھ کر شرمندگی محسوس ہوتی۔

  • آئینہ آئے گر ترے حیراں کے سامنے

شاعر کہتے ہیں کہ اگر تیرے حیران کن چہرے کے سامنے آئینہ آ جائے تو وہ بھی حیران رہ جائے گا۔

  • بہر امید گر اسے پھیلاؤں سوئے یار

شاعر کہتے ہیں کہ اگر میں اپنی امیدوں کو اپنے محبوب کی طرف پھیلاؤں تو وہ پوری ہو جائیں گی۔

  • دامان دشت تنگ ہو داماں کے سامنے

شاعر کہتے ہیں کہ دشت کا دامن میرے محبوب کے دامن کے سامنے تنگ ہو جاتا ہے۔

  • دست جنوں سے وہ بھی نہ وحشت میں بچ سکا

شاعر کہتے ہیں کہ محبوب کی وحشت سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا، چاہے وہ کتنا ہی جنونی کیوں نہ ہو۔

  • پردہ جو کچھ رہا تھا گریباں کے سامنے

شاعر کہتے ہیں کہ محبوب کے گریبان کے سامنے پردہ نہیں رہ سکتا۔

  • مشاطہ ہو عزیز زلیخا اگر وہ لائے

شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر زلیخا اپنے محبوب یوسف کے لیے مشاطہ لائے تو وہ بھی اس کی خوبصورتی کے سامنے کمزور پڑ جائے گی۔

  • نادان کہہ رہے ہیں جسے آفتاب حشر

شاعر کہتے ہیں کہ جو لوگ قیامت کے دن کو سورج کہتے ہیں وہ نادان ہیں۔

  • ذرہ ہے اس کے روئے درخشاں کے سامنے

شاعر کہتے ہیں کہ سورج محبوب کے درخشاں چہرے کے سامنے ایک ذرہ کے برابر ہے۔

  • دم بند اس لتوڑے کی جرأت نے کر دیا

شاعر کہتے ہیں کہ محبوب کے لٹ کے جھومنے کی جرأت نے ان کا دم بند کر دیا ہے۔

  • کرتا ہے ریز بلبل بستاں کے سامنے

شاعر کہتے ہیں کہ بلبل محبوب کے باغ کے سامنے اپنے گانے کی ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔

  • دیوار سرخ خون سے دیکھی پتا ملا

شاعر کہتے ہیں کہ انہوں نے دیوار کو سرخ خون سے دیکھا اور اس سے انہیں اپنے محبوب کا پتا ملا۔

  • قاصد ٹھہر گیا در جاناں کے سامنے

شاعر کہتے ہیں کہ قاصد محبوب کے دروازے کے سامنے ٹھہر گیا۔

  • کہتے ہیں روز وصل جسے پست حوصلہ

شاعر کہتے ہیں کہ جو لوگ وصل کے دن کو پست حوصلہ کہتے ہیں وہ غلط کہتے ہیں۔

  • **بے قدر ہے مری شب ہجراں کے سامنے

کسی کا رخ ہمیں قرآن کا جواب ملا

علامہ اقبال

تشریح:

یہ ایک فارسی شعر ہے جس میں علامہ اقبال نے قرآن مجید کی عظمت اور اس کی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنے کی اہمیت بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم کسی نیک اور صالح انسان کا چہرہ دیکھتے ہیں تو ہمیں قرآن مجید کی تعلیمات کا عکس نظر آتا ہے۔

شعر کی تشریح:

  • کسی کا رخ ہمیں قرآن کا جواب ملا

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ جب ہم کسی نیک اور صالح انسان کا چہرہ دیکھتے ہیں تو ہمیں قرآن مجید کی تعلیمات کا عکس نظر آتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نیک اور صالح انسان قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کے چہرے سے اللہ تعالیٰ کی نورانیت اور ان کی نیک سیرت کا عکس نظر آتا ہے۔

  • نہ تھا کچھ نظر میں ہم کو غیراز خدا ملا

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ جب ہم کسی نیک اور صالح انسان کا چہرہ دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نیک اور صالح انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے۔

مجموعی جائزہ:

یہ ایک بہت ہی اچھا شعر ہے جس میں علامہ اقبال نے قرآن مجید کی عظمت اور اس کی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنے کی اہمیت بیان کی ہے۔ شعر میں استعارے اور تشبیہ کا استعمال بھی کیا گیا ہے، جو اسے مزید خوبصورت اور دلچسپ بنا دیتا ہے۔

درجہ بندی:

میں اس شعر کو 5 میں سے 5 ستارے دیتا ہوں۔

مزید:

آپ اس شعر کا اردو ترجمہ بھی پڑھ سکتے ہیں:

  • کسی کا رخ ہمیں قرآن کا جواب ملا
  • نہ تھا کچھ نظر میں ہم کو غیراز خدا ملا

ترجمہ:

  • کسی کا چہرہ ہمیں قرآن کا جواب نظر آیا
  • ہمیں اس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آیا

یہ جو قرآن مبیں ہے رحمت اللعالمینﷺ

علامہ اقبال

تشریح:

یہ ایک فارسی نظم ہے جس میں علامہ اقبال نے قرآن مجید کی عظمت اور اس کی تعلیمات کی اہمیت بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید رحمت اللعالمینﷺ ہے اور اس کی تعلیمات پوری دنیا کے لیے رحمت اور برکت کا ذریعہ ہیں۔

نظم کی تشریح:

  • یہ جو قرآن مبیں ہے رحمت اللعالمینﷺ

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن مجید رحمت اللعالمینﷺ ہے، یعنی یہ پوری دنیا کے لیے رحمت اور برکت کا ذریعہ ہے۔

  • اس میں ہے ہر درد کی دوا ہر غم کا غم خوار

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہر درد کی دوا اور ہر غم کا غم خوار موجود ہے۔

  • اس کی تعلیم ہے جوہرِ دین و ایمان

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی تعلیم دین و ایمان کا جوہر ہے۔

  • اس سے ہے زندگی کو نور و تابانی

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن مجید سے زندگی کو نور و تابانی ملتی ہے۔

  • اس کی روشنی میں چل کر بن جا انسان کامل

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی روشنی میں چل کر انسان کامل بن سکتا ہے۔

  • اس سے ملتی ہے دنیا و آخرت کی کامیابی

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن مجید سے دنیا و آخرت کی کامیابی ملتی ہے۔

  • اس کی تلاوت سے دل کو سکون ملتا ہے

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی تلاوت سے دل کو سکون ملتا ہے۔

  • اس کی برکت سے زندگی میں خوشحالی آتی ہے

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی برکت سے زندگی میں خوشحالی آتی ہے۔

  • اس کی تعلیمات پر عمل کر کے ہم دنیا کو جنت بنا سکتے ہیں

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کر کے ہم دنیا کو جنت بنا سکتے ہیں۔

مجموعی جائزہ:

یہ ایک بہت ہی اچھی نظم ہے جس میں علامہ اقبال نے قرآن مجید کی عظمت اور اس کی تعلیمات کی اہمیت بیان کی ہے۔ نظم میں استعارے اور تشبیہ کا استعمال بھی کیا گیا ہے، جو اسے مزید خوبصورت اور دلچسپ بنا دیتا ہے۔

درجہ بندی:

میں اس نظم کو 5 میں سے 5 ستارے دیتا ہوں۔

مزید:

آپ اس نظم کا اردو ترجمہ بھی پڑھ سکتے ہیں:

  • یہ جو قرآن مبیں ہے رحمت اللعالمینﷺ
  • اس میں ہے ہر درد کی دوا ہر غم کا غم خوار
  • اس کی تعلیم ہے جوہرِ دین و ایمان
  • اس سے ہے زندگی کو نور و تابانی
  • اس کی روشنی میں چل کر بن جا انسان کامل
  • اس سے ملتی ہے دنیا و آخرت کی کامیابی
  • اس کی تلاوت سے دل کو سکون ملتا ہے
  • اس کی برکت سے زندگی میں خوشحالی آتی ہے
  • اس کی تعلیمات پر عمل کر کے ہم دنیا کو جنت بنا سکتے ہیں

Leave a Comment